Friday, February 24, 2017

موہنجوڈیرو کے پریسٹ کنگ (مذہبی بادشاہ) سے ایک ملاقات

کمرہ اتنا چھوٹا اور تنگ تھا کہ گھستے ہی بے اختیار زبان پر مشہور و معروف مصرعہ آگیا ۔۔۔۔ "پاوں پھیلاوں تو دیوار سے سر لگتا ہے ۔۔۔۔۔ "۔ سوچنے کا وقت نہیں تھا ۔ سوٹ کیس زمین پر پھینک دی۔ کپڑے اتار کر
پھینک دئیے، اے سی تیز کرلی، اور پلنگ پر کود پڑا۔
دن بھر کے تھکن کی وجہ سے جلد ہی نیند آگئی۔
آنکھ کھلی تو کمرے میں دھیمی سی روشنی تھی۔ پلنگ کے قریب ہی میز لگا ہواتھا جس پر لیمپ روشن تھا۔ مجھے ایسا لگا کہ میز کے ساتھ رکھی کرسی پر ایک ہیولا سا بیٹھا ہوا ہے۔ پہلے تو مجھے لگا کہ نظروں کا دھوکہ ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد ہیولے میں حرکت سی پیدا ہوئی تو میری چیخ نکل گئی۔ میں نے کہا کہ یہ بندہ کمرے میں کیسے گُھس آیا؟ دروازہ تو میں نے بند کردیا تھا۔ یہ جن بھوت تو نہیں ہے؟ روشنی کی رفتار سے سوالات ذہن میں اُبھرے۔ چیخ ابھی بند نہیں ہوئی تھی کہ ہیولا کھڑا ہوگیا۔ ٹانگیں اور جسم کا اوپری حصہ ننگا تھا۔ کاندھے پر اجرک بلکل اسی طرح رکھا ہوا تھا جیسے حج اور عمرہ کے لئے جانے والے احرام باندھتے ہیں۔ ایک کاندھا ننگا تھا۔ عمر رسیدہ شخص تھا۔ سر پر بال بھی بہت کم تھے۔ چہرے پر ایک ملائم سی مسکراہٹ تھی۔ جن تو کسی صورت نہیں لگ رہاتھا۔

"کمرے میں کیسے گھسے ہیں آپ؟ کیوں آئے ہیں؟ کون ہیں آپ؟" ، میں نے ہذیانی عالم میں پوچھا۔


"میں پریسٹ کنگ ہوں، موہنجوڈیرو کا"، اس نے مسکرا کر کہا۔


"کیا بکواس کر رہے ہیں آپ۔ موہنجوڈیرو کو تباہ ہوے پانچ ہزار سال گزرے ہیں۔ آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ ، میں نے غصے سے پوچھا۔


"سائیں، میں جھوٹ نہیں بولتا۔ میں پریسٹ کنگ ہوں۔ آپ نے آج جو بُت خریدا اس میں شامل ذرات میں میری روح بھی موجود تھی۔ آپ مجھے وہاں سے نکال کر یہاں لے آئے ہیں۔"، ہیولے نے اسی پراسرار مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
"ان سب باتوں سے میں بے وقوف نہیں بنوں گا۔ فضول باتیں چھوڑ دو۔ اور مجھے بتاو کہ روم میں کیا کر رہے ہو۔" یہ کہہ کر میں ٹیبل کی طرف دیکھا جہاں میرا ڈیجیٹل کیمرہ پڑا تھا۔
"آپ مجھے موہنجوڈیرو سے اُٹھا کر لے آئے ہیں ۔ مجھے واپس لے جائیں اور وہی رکھ دیں۔ "، اس نے کہا۔ 
میں نے ایک لمحے کے لئے مورتی کی طرف دیکھا، جو میز میں ابھی تک اخباری کاغذ میں لپٹا پڑا تھا۔
"یا ر کیوں دماغ خراب کر رہے ہو۔ وہاں دن میں ایسی سینکڑوں مورتیاں بکتی ہیں۔"، میں نے تنک آکر جواب دیا ۔ ایسی باتوں پر کون یقین کرتا ہے۔
"آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ سینکڑوں مورتیاں بکتی ہیں، لیکن جو مورتی آپ اُٹھا کر لے آئے ہیں اس کی مٹی موہنجوڈیرو میں موجود عبادتگاہ سے اُٹھائی گئی ہے۔ اس لئے یہ مورتی خاص ہے۔ اور اسی لئے میں یہاں ہوں۔"، خود ساختہ پریسٹ کنگ نے جواب دیا۔
میں نے بیزاری کے عالم میں کہا کہ ایسی باتیں اس دور میں نہیں چلتی ہیں۔ سائنس بہت آگے نکل گئی ہے۔ لوگوں کو بیوقوف بنانے کے لئے کسی پانچ ہزار سالہ قدیم شخص کا سوانگ رچانا احمقانہ حرکت ہے۔ اور ایک بار پھر ہیولے کا بتا دیا کہ وہ کمرے سے نکل جائیں۔ 
وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ بلکہ کرسی پر دوبارہ بیٹھ کر مجھے دیکھنے لگا۔
میں نے کہا کہ میں بہت تھک چکا ہوں۔ لاڑکانہ سے حیدر آباد تک سفر کر نا تھکا دینے والا تجربہ ہے ۔ التجائی انداز میں میں نے ہیولے سے اپیل کی کہ وہ کمرے سے نکل جائے۔ لیکن وہ ڈٹا رہا۔
"میں کیسے لے جاوں گا یار تمہیں لاڑکانہ۔ آفس کی گاڑی ہے۔ اپنی نہیں ہے۔ میں نہیں جاسکتا سات گھنٹے کے سفر پر ایک بار پھر۔"، میں نے زور دے کر کہا۔
وہ نہ مانا۔
میں نے کپڑے پہنے۔ اسے تیار ہونے کا کہا۔ مورتی لی اور کمرہ بند کرکے ہوٹل کے پارکنگ تک چلا گیا۔ میں اس شخص کو سیکیورٹی کے حوالے کرنا چاہتا تھا۔ ڈرائیور خوش قسمتی سے پارکنگ میں ہی تھا۔ میں نے کہا کہ مجھے بازار تک جانا ہے اگر وہ نہیں آسکتا تو مجھے چابی دے۔ وہ تھکا ہوا تھا۔ چابی میرے حوالے کردی۔
میں نے سرگوشی کے انداز میں اسے بتایا کہ اس بندے نے تنگ کیا ہوا ہے۔ کمرے میں گھسا ہوا تھا۔ اسے پولیس کے حوالے کروں گا۔
ڈرائیور عجیب سی نظروں سے میری طرف دیکھنے لگا۔ کونسا شخص سر، اس نے پوچھا۔ میں نے پیچھے کی طرف اشارہ کیا۔ وہ مزید حیرت سے میری طرف دیکھنے لگا۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو کوئی نہیں تھا۔
مخمصے سے نکلنےکے لئے میں نے گاڑی سٹارٹ کی اور باہر کی طرف روانہ ہوگیا۔ رات کے اس پہر ٹریفک بہت کم تھی۔ تین چار منٹ چلنے کے بعد میں نے دیکھا کہ ہیولا گاڑی کی پچھلی سیٹ پر براجماں مسکرا رہا ہے۔ میرے جسم کے بال کھڑے ہو گئے۔


"تم گاڑی میں کب  اور کیسے بیٹھ گئے؟"
وہ خاموش رہا۔
میں نے کہا لاڑکانہ بہت دور ہے۔ نہیں چلا سکوں گا۔ پیٹرول نہیں ہے۔ راستہ خراب ہے، وغیرہ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔
اس کی خاموشی نہ ٹوٹی۔
میں لاڑکانہ کی طرف روانہ ہوگیا۔ کیونکہ جس انداز میں یہ شخص کمرے میں داخل ہوا تھا، یا کار میں بیٹھا تھا، مجھے اس کے انسان ہونے پر شک ہونے لگا تھا۔ اور اب ڈر بھی لگنے لگا تھا۔ حکم کی تعمیل کے سوا چارہ نہیں تھا۔
"لمبا سفر ہے۔ آپ آ کر آگے بیٹھ جائیں"، میں نے پیچھے دیکھے بغیر کہا۔ اگلے ہی لمحے پریسٹ کنگ میرے بائیں جانب فرنٹ سیٹ پر بیٹھا مسکرا رہا تھا۔
"اپنے بارے میں مزید بتائیں مجھے۔ آپ کتنے عرصے سے موہنجوڈیرو کی خاک میں قید تھے؟"، میں نے پوچھا۔
"میں قید نہیں ہوں۔ روح کو قید نہیں کیا جاسکتا۔"، جواب ملا۔
"اگر آپ ایک روح ہیں تو آپ کو گاڑی میں واپس جانے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے؟ اُڑ کر کیوں نہیں جاتے؟ یہ گاڑیاں وغیرہ تو ہم جیسے خاکیوں کے لئے ہیں۔ "میں نے طنزیہ جملہ گھسیٹ کر مارا۔
"مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ میں تمہیں موہنجوڈیرو ایک بار پھر دکھانا چاہتا ہوں۔ اسلئے تمہیں لے جارہاہوں"، اس نے کہا۔
"لیکن میں تو دو دفعہ موہینجوڈیرو جاچکا ہوں۔ میں نے دیکھ لی ہے۔ اب دوبارہ نہیں دیکھنا مجھے"، میں نے کہا اور اپنا موبائل نکالنے لگا۔ موبائل نکال کر میں نے اسے تصویریں دکھائیں جن میں موہنجوڈیرہ پر سورج غروب ہورہا تھا اور میں ہاتھ پھیلائے معبد کے سامنے موجود تھا۔ میں ثابت کرنا چاہتا تھا کہ میں موہنجوڈیرو دیکھ چکا ہوں۔ دوبارہ جانے کی ضرورت نہیں ہے۔
اُس نے تصویریں دیکھیں، اور مجھے گاڑی چلاتے رہنے کا حکم دیا۔
اس کے بعد گاڑی میں خاموشی چھائی رہی۔ چھ گھنٹے بعد ہم لاڑکانہ میں داخل ہوے اور موہنجوڈیرو کی طرف چل پڑے۔ ایر پورٹ کے قریب سے گھوم کر بڑا سا دروازہ کراس کیا اور میوزیم کے سامنے پارکنگ ایریا میں گاڑی روک دی۔پوپھٹنے میں شائد ایک گھنٹہ رہتا تھا۔
پریسٹ کنگ گاڑی سے اترااور تیزی سے موہنجوڈیرو کے کھنڈرات کی طرف چل پڑا۔ میں چھوٹی سی مورتی ہاتھ میں لئے پیچھے چل پڑا۔ سیڑھیاں چڑھنے کے بعد پریسٹ کنگ گول معبد کے سامنے آکر رک گیا۔ دیوار میں ایک روزن سا بنا ہواتھا۔ پریسٹ کنگ نے مجھے پیچھے آنے کا اشارہ کیا اور روزن میں دیکھنے لگا۔ تھوڑی دیر دیکھنے کے بعد مجھے دیکھنے کی دعوت دی اور خود پیچھے ہٹ گیا۔
میں نے روزن میں دیکھا تو ایک فلم سی چل رہی تھی، جیسے ورچوئل ریالٹی ڈیوائسز میں چلتی ہے۔
میرے سامنے ایک عظیم الشان قدیم شہر تھا۔ بیل گاڑیوں اور گھوڑوں کے چلنے سے اُٹھتا گرد تھا۔ گھروں کی چھتوں پر پھول اُگائے گئے تھے۔ نکاسی آب کا شاندار نظام تھا۔ گلیاں صاف و شفاف اور سیدھی تھیں۔ جا بجا کوڑا کرکٹ پھینکنے کے لئے مخصوص جگہے بنائے گئے تھے۔
شہر میں ہزاروں گھر تھے۔ گھروں کی ساخت ایک دوسرے سے مختلف تھی۔ کچھ گھر بڑے تھے اور آرائش و زیبائش سے امرا کے گھر لگ رہے تھے۔ ایک طرف چھوٹے گھر تھے، جن میں مزدور اور محنت کش طبقات تھے۔ ہم شہر کی سب سے اونچی جگہ پر کھڑے تھے، جہاں سے پورا شہر نظر آتاتھا۔
غالباً ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر لشکارے مارتا دریائے سندھ رواں تھا۔ دریا میں کشتیوں پر مچھیرے گا رہے تھے، اور مچھلیوں کا شکار کر رہے تھے۔ بعض مقامات پر بڑی کشتیوں سے اجناس سے بھرے مٹکے اُتارے جارہے تھے۔ ایک شخص مٹکوں پر لگی مہریں دیکھ کر سامان کی تصدیق کر رہا تھا۔

ایک گھر کی چھت پر کچھ بچے کھلونوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ بیل گاڑی کی شکل کے کھلونے مٹی کے بنے ہوے تھے۔ پاس بیٹھی عورت کے گلے میں سیپیوں اور موتیوں کا ہار جگمگا رہا تھا۔ بعض عورتوں کے گلوں میں سُرخ مٹی سے بنے ہوے ہارتھے۔

شہر کے ایک چوراہے میں فوارا سا بنا ہوا تھا، جس کے گرد لوگوں کا ایک جھمگٹا لگا تھا۔ درمیان میں ایک چھوٹی سی سٹیج پر ایک خوبصورت رقاصہ کھڑی محوِ رقص تھی۔ لوگ رقص دیکھ رہے تھے، اور رقاصہ کی بے نقص حسن اور دل رُبا اداؤں کو داد دے رہے تھے ۔
شہر بہت بڑا تھا، اور ہر طرف کوئی نہ کوئی دلچسپ سرگرمی جاری تھی۔ ہر طرف چہل پہل تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ شہرِ طلسم ہے، جہاں غم اور فکر نہیں، پریشانی نہیں۔
میں دیکھتا گیا۔ وقت گزرنے کا احساس تک نہ ہوا۔
کاندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا۔ میں نے روزن سے نظریں ہٹا لیں۔ پریسٹ کنگ مجھے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔
"آپ تو سائیں بلکل کھو گئے ہیں موہنجوڈیرو میں"، انہوں نے کہا، اور میں احمقوں کی طرح دانت نکال کر مسکرانے لگا۔
"جی سائیں۔ شاندار شہر ہے"، میں نے اپنی ٹوٹی پھوٹی سندھی میں کہا۔
"ہزاروں سال پہلے بہت خوبصورت تھا سائیں۔ لیکن ہر خوبصورت شے کی
طرح اس کا حسن بھی دائمی نہیں۔ سندھو دریا دھیرے دھیرے رخ بدل کر دور چلا گیا۔ کشتیاں دور رُکنے لگیں۔ کاروبار کم ہوگیا۔ پھر نہ جانے کب بستی ویران ہو گیا۔"، پریسٹ کنگ بولا۔

"لیکن مجھے موہنجوڈیرو کی بربادی سے زیادہ پریشانی نہیں ہے۔ کیونکہ یہ تو ایک پرانی بات ہے۔ اصل پریشانی کی بات یہ ہے کہ اس زمانے میں سندھ کے دیہات ، قصبات اور شہر موہنجوڈیرو سے بھی بری طرح سے بنائے گئے ہیں۔ نہ نکاسی کا نظام ہے، نہ گلیاں سیدھی ہیں۔ نہ لوگوںمیں مل کر رہنے کا سلیقہ ہے۔" پریسٹ کنگ مسلسل بولے جارہاتھا۔

تھوڑی دیر کے  لئے خاموشی چھائی رہی۔ پریسٹ کنگ سے اس معاملے پر اختلاف کرنا مشکل تھا۔ 

"مجھے واپس جانا ہے اب۔ آپ اور آپ کی مورتی یہاں پہنچ گئے ہیں۔ میں زیادہ دیر نہیں ٹہر سکتا۔"

"اچھا۔۔۔۔ تھوڑی دیر اس کمرے میں آرام کر لو سائیں"، پریسٹ کنگ نے مسکراتے ہوے صلاح دی۔

میں تھکا ہوا تھا۔ لیٹ گیا، اور لیٹتے ہی سو گیا۔



تھوڑی دیر بعد دروازے پر زور زور سے دستک ہونے لگی۔ نیند کا غلبہ بھاری تھا۔ دستک کی آوازیں کان میں پڑ رہی تھیں، لیکن آنکھ نہیں کھول پال رہا تھا۔
دستک تیز ہوگئی تو میں چونک کر اُٹھ گیا۔

کمرے میں دھیمی سی روشنی تھی۔ پریسٹ کنگ اور رقاصہ کی مورتیاں انڈس ہوٹل حیدر آباد کے اس تنگ کمرے میں ٹیبل پر پڑی تھیں۔

"سر اُٹھ جائیں۔ کھانے کا وقت ہوگیا ہے۔ آپ کے ساتھی انتظار کر رہے ہیں۔"کسی نے آواز دی۔

میں مسکرا کر کھڑا ہوگیا۔ پریسٹ کنگ سے ملاقات ہوگئی تھی۔ کاش خواب جلدی ختم نہ ہوتا۔
٭٭٭٭٭٭٭ختم شد٭٭٭٭٭٭٭٭

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Your comment is awaiting moderation.

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔