Monday, May 05, 2014

پاک چین معاشی راہداری اور گلگت بلتستان

پاکستان اور عوامی جمہوریہ چین کے درمیان روز اول سے اچھے تعلقات رہے ہیں۔ پاکستان کے وجود میں آنے سے پہلے ریاست ہنزہ کے خاقان چین کے ساتھ اچھے سفارتی وتجارتی تعلقات تھے۔ چین نستبا ایک بہت بڑی ریاست تھی جبکہ ہنزہ ایک بہت چھوٹی سی ریاست تھی ، لیکن اس کے باوجود قدیم ریاستِ چین وادی ہنزہ کے جغرافیائی حدود کا احترام کرتا تھا۔ اس احترام کے پیچھے ایک سفارتی حقیقت یہ بھی تھی کہ ریاست ہنزہ کے میر نے یارقند کے علاقے میں ایک بغاوت کو کچلنے میں خاقان چین کی مدد کی تھی۔ اسی خدمت کے عوض خاقان چین نے یارقند میں میر آف ہنزہ کو ایک جاگیر بھی عنایت کی تھی۔ اسکے علاوہ، وادی ہنزہ کے میر خاقانِ چین کو باقاعدہ خراج بھی دیتے تھے ، جسکی حیثیت علامتی اور قیمت معمولی تھی۔ مقامی سطح پر لکھی گئی دو کتابوں ( عہد نامہ عتیق، ریاست ہنزہ اور سر محمد نظیم خان کی سرگزشت) سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ریاستیں وقتا فوقتا تجارتی اور سفارتی وفود کا تبادلہ کرتے تھے اور کسی بھی مصیبت کی صورت میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کے اصولوں پر کاربند تھے۔ 

پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد ریاست ہنزہ کو پاک چین ریاستی تعلقات میں کلیدی حیثیت ملی۔ شاہراہ قراقرم کی تعمیر اور سرحدی تنازعات حل کرنے میں میر آف ہنزہ کی رضامندی شامل رہی جسکی وجہ سے حکومت پاکستان کو بہت ساری آسانیاں بھی نصیب ہوئیں۔ بعض حوالوں کے مطابق سرحدی معاملات حل کرتے ہوے ریاست پاکستان نے وادی ہنزہ کے ایک بڑے حصے پر چین کی حق ملکیت تسلیم کر لی جبکہ اس کے بدلے چین کی حکومت نے بھی کچھ علاقے پاکستان کے حوالے کر دئیے۔ اس دوران درحقیقت کتنے مربع کلومیٹر زمین کا تبادلہ ہواتھا یہ کہنا مشکل ہے کیونکہ اس موقعے پر دستخط شدہ کاغذات عوام الناس کو آسانی سے میسر نہیں ہیں۔ 

شاہراہِ قراقرم کی تعمیر اور ۱۹۸۰ کے دہائی میں ہونے والے سرحد ی تجاری معائدے کے بعد پاکستان اور چین کے درمیان تجارت کے مواقع کھل گئے۔ لیکن ان مواقعوں کا خاطر خواہ فائدہ گلگت بلتستان کے باشندوں کو نہیں ہوا۔ سرمائے سے محروم اور ناکافی تجارتی تجربہ رکھنے کی وجہ سے بہت سارے افراد جنہوں نے مالیاتی اداروں سے بھاری بھر قرضے لے رکھے تھے اس روٹ پر کاروبار کرنے کے چکر میں ہمیشہ کے لئے مقروض ہو کر رہ گئے۔ دھیرے دھیرے پاکستان اور چین کے درمیان تجارت پر غیر مقامی سرمایہ دار قابض ہو گئے اور مقامی لوگوں نے بہت بڑی تعداد میں اجرت کے بدلے ان کے لئے ’’کیری‘‘ کا کام کرنا شروع کردیا۔ کچھ مقامی افراد کسٹم کلیرنگ وغیرہ کے شعبے سے وابستہ ہو گئے اور غیر قانونی طریقوں سے کافی مال بنا لیا۔ غرض، یہ وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ گلگت بلتستان کے صرف گنے چنے افراد اور چند تنظیمیں ہیں جنہوں نے صیح معنوں میں شاہراہ قراقرم پر چین کے ساتھ ہونے والی تجارت سے فائدہ اُٹھایا۔ 

سنجیدہ منصوبہ بندی، وسائل اور مہارتوں سمیت مستقل حکومتی ڈھانچے کی کمی کی و جہ سے اب تک گلگت بلتستان سے بالخصوص اور پاکستان سے بالعموم چین کو کوئی قابلِ ذکر اشیا نہیں بھیجے جارہے ہیں۔ جبکہ وہاں سے سامان کی آمد دھڑا دھڑ جاری ہے، اور سامان بھی وہ جو انتہائی گھٹیا معیار کا ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہمارے تاجر ہی سستی مصنوعات خریدتے ہیں کیونکہ لوگوں کی قوت خرید کم ہے اور ان تاجروں کے پاس سرمائے کی کمی بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے بازار غیر معیاری چینی مصنوعات ، بشمول پھل اور سبزی ، سے بھرے پڑے ہیں جسکی وجہ سے مقامی کاشتکاروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ چین سے آنے والے پھلوں اور سبزیوں کے حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق معیار کی جانچ پڑتال کے لئے کوئی مستند اور جدید لیبارٹری یا نظام موجود نہیں ہے۔ 

چار جنوری ۲۰۱۰ کے بعد شاہراہ قراقرم کی طویل بندش کے بعد اس شاہراہ پر تجارت کرنا گھاٹے کا سودا رہا ہے۔ اسی لئے زیادہ تر تاجروں نے بحری راستے سے کاروبار شروع کر دیا۔ گزشتہ چار سال سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ عطا آباد کے نزدیک شاہراہ قراقرم کے متبادل سڑک کی تعمیر کا کام زور و شور سے جاری ہے اور امید یہ ہے کہ اگلے سال تک سرنگوں اور پلوں کی تعمیر کے بعد ٹریفک دوبارہ بحال ہو سکے گی۔ 

اس تناظر میں حکومت پاکستان اور چین گزشتہ کئی سالوں سے شاہراہ قراقرم کو ایک بین الاقوامی معاشی راہداری کا حصہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ شاہراہ قراقرم کی مرمت اور بعض مقامات پر تعمیر نو بھی اسی منصوبے کا حصہ تصور کیا جارہا ہے۔ یہ معاشی راہداری چینی مصنوعات کی مشرق وسطی کی منڈیوں تک ترسیل کا اہم ذریعہ ثابت ہوگا جس سے چین کی معیشت کو زبردست سہارا ملے گا جبکہ ترسیل کی لاگت کم ہونے کی وجہ سے چین مزید کم قیمتوں پر اپنی مصنوعات افریقی اور ایشائی ممالک تک پہنچانے کے قابل ہو جائیگا۔ اسکے علاوہ ، اسی راہداری کے ذریعے چین تک خلیجی ریاستوں سے تیل کی ترسیل بھی ممکن ہو سکے گی جس سے چین کی پیداواری لاگت میں کمی ہوگی اور اسکی معیشت میں روز افزوں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔ 

پاک چین معاشی راہداری کی تکمیل کے لئے حکومت چین نے شاہراہ قراقرم کی مرمت اور تعمیر نو کا بیڑہ اُٹھایا ہوا ہے۔ اس معاشی راہداری کے دوسرے سرے پر واقع گوادر پورٹ کا کنٹرول پہلے سے چینی کمپنی کے پاس ہے۔ آپٹک فائبر بچھانے کے معائدے پر دستخط ہو چکے ہیں۔ گوادر میں بین الاقوامی معیار کا ایر پورٹ تعمیر کیا جارہا ہے۔ ریلوے لائن کی امکانیت اور عمل پزیری پر تحقیق کی جا چکی ہے۔ یعنی، چین نے اپنے تئیں مکمل تیاری کر لی ہے۔

یاد رہے کہ اس مجوزہ معاشی راہداری سے صرف چین اور پاکستان ہی نہیں بلکہ متعدد وسط ایشائی ممالک، بشمول تاجکستان ، قازقستان اور ترکمانستان وغیرہ کو بھی مصنوعات کی ترسیل کے لئے ایک اہم راستہ مل جائیگا۔ معاشی راہداری کی تعمیر کو ممکن بنانے کیلئے چین ایک طرف پاکستان کے ساتھ معائدے کر رہا ہے جب کہ دوسری طرف عوامی جمہوریہ چین کی حکومت ملکی سطح پر سرحدی علاقوں کو تجارتی مراکز میں بدلنے کی ایک زبردست حکمت عملی پر کام کر رہا ہے۔ پاک چین معاشی راہداری کی تعمیر کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اُٹھانے، اور اپنی مقامی معیشت کو مضبوط تر بنانے کے لئے چین کی حکومت نے گوانگزو نامی علاقے میں بین الاقوامی معیار کا ایک شاندار تجارتی مرکز قائم کیا ہے ، جسکے لئے طویل المدتی مقاصد مرتب کئے جاچکے ہیں اور پوری دنیا سے سرمایہ کاروں کو بھی مدعو کیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں پرکشش مراعات دے کر پاکستانی اور گلگت بلتستان کے تاجروں کو بھی کافی عرصے سے چین میں سرمایہ کاری کی دعوت دی جارہی ہے۔ اسی نوعیت کی ایک فری اکنامک زون کی تعمیر کا کام تاجکستان کے سرحدی علاقے اشکاشم میں بھی زور و شور سے جاری ہے۔ اس فری اکنامک زون کی تعمیر کے لئے زمین مختص کی جاچکی ہے اور اب سرمایہ کاری کے لئے عالمی سطح پر کوششیں کی جارہی ہیں ۔ یقیناًیہ ساری تیاریاں پاک چین معاشی راہداری اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مواقعوں سے فائدہ اُٹھانے کے لئے کی جارہی ہیں۔ 

اس راہداری کے اہم ترین علاقے میں واقع ہونے کے باوجود معاشی مواقعوں سے فائدہ اُٹھانے کے لئے گلگت بلتستان میں تیاریوں کی صورت حال حوصلہ افزا ء نہیں ہے۔ بلکہ بعض حوالوں سے کسی قسم کی کوئی تیاری نہیں کی جارہی ہے۔ گلگت بلتستان کے منتخب نمائندوں کو پالیسی اداروں میں گھاس نہیں ڈالی جارہی ہے۔ اسلیے ہمارے علاقے کے معاشی مستقبل کا فیصلہ ایک بار پھر بیوروکریٹس کے ہاتھوں میں ہے۔ مقامی سطح پر کوئی قابلِ ذکر مصنوعات نہیں بن رہے ہیں۔ سوست (وادی گوجال) میں واقع نسبتا چھوٹے ڈرائی پورٹ پر چینی کمپنیوں کا براہ راست کنٹرول ہے ۔گوجال کے مقامی افراد بہتر منصوبہ بندی اور پیش بینی کے ذریعے مل کر گلگت بلتستان کے اس واحد ڈرائی پورٹ سے فائدہ اُٹھانے کی بجائے مقدمہ بازیوں میں مصروف ہیں۔ سوست کسٹمز سے حاصل شدہ آمدنی گلگت بلتستان کی ترقی پر خرچ ہونے کی بجائے اسلام آباد منتقل کیا جاتا ہے۔ جبکہ ڈرائی پورٹ کی آمدنی کا بہت بڑا حصہ چینی کمپنی کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے۔ کوہستان کی ترقی کا فنڈ اب تک یہاں سے لیا جارہا ہے اور اس ضمن میں قانون ساز اسمبلی کی احتجاجیں، قراردادیں اور فریادیں ردی کی ٹوکریوں کا رزق بن کر خاک میں مل چکے ہیں۔ 

معاشی راہداری کی تعمیر کے سلسلے میں کی جانے والی منصوبہ بندی سے گلگت بلتستان کے منتخب نمائندوں اور اداروں کو دور رکھا جارہا ہے۔ فیصلہ سازی کے سارے اختیارات مرکزی حکومت نے اپنے پاس رکھے ہیں۔ اس صورتحال میں گلگت بلتستان کے مفادات کی دفاع کرنے کے لئے کوئی بھی مقامی فرد یا منتخب ادارہ قابلِ ذکر کردار ادا نہیں کر رہا ہے۔ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے ممبران ایک قرار داد کے ذریعے مرکزی حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کر چکے ہیں لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ان تحفظات کو رد کر دیا گیا ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان ریلوے لائن ، فائبر آپٹک، تیل اور گیس لائن وغیرہ بچھانے کی خبریں سن کر لوگوں کے کان پک چکے ہیں ، لیکن اس معاملے پر بھی مقامی آبادیوں اور منتخب نمائندوں اور اداروں کو اعتماد میں نہیں لیا جارہا ہے۔ اس سارے تناظر میں گلگت بلتستان کے لوگوں میں مرکزی حکمرانوں کی نیتوں کے حوالے سے شکوک و شبہات ہیں اور احساسِ محرومی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ 

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ہم فی الحال اس معاشی راہداری سے خاطر خواہ فائدہ اُٹھانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ نہ ہمارے پاس تجارت کی جدید تربیت ہے ، نہ ہی تاجروں کے پاس سرمایہ۔ نہ مقامی سطح پر مصنوعات تیار ہو پارہی ہیں اور نہ ہی صنعتیں لگانے کا کوئی منصوبہ زیر غور ہے۔ گلگت بلتستان میں صنعتیں لگانے کا خواب دیوانے کا خواب لگتا ہے جب زمینی صورتحال یہ ہے کہ اس دور میں بھی گلگت بلتستان کے دارالخلافہ میں ۲۲ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے ۔ 

سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ معاشی راہداری کے حوالے سے ہونے والوں معائدوں میں منتخب نمائندوں اور اداروں کی رائے کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی ہے ۔ اس صورتحال میں اختیارات، حمیت اور بصیرت سے محروم گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی سے کسی قسم کی توقع رکھنا فضول ہے۔ ان کا کا م تو اب صرف یہی رہا ہے کہ اپنے چہیتوں کو غیر قانونی طریقے سے بھرتی کر کے انکے دفاع میں اپنی توانائیاں خرچ کرتے رہے۔ سینیٹ کے فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کے چیرمین اور ممبران نے قانون ساز اسمبلی کے اختیارات کے ڈھول کا پول کھول دیا ہے ، لیکن ہمارے عوامی نمائندے اپنے انا کے دفاع کے لئے اب بھی گلگت بلتستان کو صوبہ اور اپنے اسمبلی کو با اختیار کہہ کر اپنا اور ہمارا مذاق اُڑاتے رہیں گے۔ 

دعووں اور خود فریبی پر مبنی تجزئیوں سے باہر نکل کر حقیقت پسندی سے سارے معاملے کو دیکھا جائے تو ہر طرف مایوسی ہی مایوسی ہے ۔ اگر اب بھی صوبائی قائدین اور مرکزی اداروں کے کرتا دھرتا بیوروکریٹس نے ہوش کا ناخن نہ لیا اور مقامی سطح پر استعداد کاری اور قانون سازی کے ذریعے ہمارے مفادات کا دفاع نہیں کیا تو ہماری زمین استعمال کرکے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار اپنی دولت میں اضافہ تو کریں گے لیکن ہم لوگ ماضی کی طرح گاڑیاں گنتے رہ جائیں گے۔ 

پچھلے ہفتے گلگت بلتستان کے دورے پر آنے والے ایوان بالا کے اکابرین نے گلگت پریس کلب میں صحافیوں سے بات کرتے ہوے گلگت بلتستان کو موجودہ حالات کے تناظر میں پاکستان کے دفاع، خارجہ پالیسی اور معیشت میں کلیدی حیثیت پر تو فائز کر دیا مگر ان کے پاس کوئی واضح پالیسی اور ماڈل نہیں ہے جس کے ذریعے مجوزہ معاشی راہداری کی تعمیر سے گلگت بلتستان کے غربت میں پسے افراد اور کمزور معیشت کو سہارا دینے کی سبیل ہو سکے۔ 

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ا گر بغیر تیاری، قانون سازی، استعداد کاری اور منصوبہ بندی کے اگر گلگت بلتستان کو اس معاشی راہداری میں جھونک دیا گیا تو بین الاقوامی تجارتی قوتیں اور ملکی سرمایہ دار گلگت بلتستان کی معیشت کو روند کر نکل جائیں گے اور ہم لوگوں کے نصیب میں زناٹے بھرتی ریل اور دوسری گاڑیوں کا دھواں ہی رہ جائیگا۔ 

پاک چین تعقات کی تاریخ 

  • ۔ پاکستان نے چین کو ۱۹۵۱ میں بطور آزاد ملک تسلیم کیا ۔ 
  • ۔ ایک سرحدی معائدے کے تحت جس پر ۱۹۶۲ میں دستخط کئے گئے ٹرانس قراقرم ٹریکٹ کہلائے جانے والا علاقہ چین کے حوالے کردیا گیا۔ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان نے تقریبا ۲۰۰۰ (دو ہزار) مربع کلو میٹر کے علاقے پر چین کی حق ملکیت تسلیم کرلی جبکہ بدلے میں چین نے تقریبا ۷۵۰ (ساڑھے سات سو) مربع کلو میٹر کے علاقے پر پاکستان کی حق ملکیت تسلیم کر لی ۔ اس سرحد ی معائدے کے تحت پاکستان اور چین نے اپنے سرحدی تنازعات کو مشروط انداز میں طے کر لیا۔ کشمیر کی آزادی کے بعد اس معائدے پر نظر ثانی کی شق دستاویز میں موجود ہے 
  • ۔ بریگیڈئر محمد ممتاز خالد کی تحقیق کے مطابق ( جو دو کتابوں کی شکل میں شائع ہو چکی ہے) انڈس ویلی روڑ کے نام سے ایک جیپ ایبل سڑک کی تعمیر ۱۹۵۸ میں شروع کی گئی تھی۔ اسی روڑ کا نام بعد میں قراقرم ہائے وے رکھا گیا۔ ۱۹۶۶ میں شروع ہونے والے قراقرم ہائے وے پراجیکٹ کے پہلے فیز پر پاک فوج نے کام مکمل کردیا جبکہ دوسرے فیز کے لئے چین کی معاونت بھی حاصل کی گئی۔ شاہراہ قراقرم کی تعمیر ۱۹۷۸ (انیس سو اٹھتر) میں مکمل کر لی گئی اور اسے ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا۔ تاہم ۱۹۸۵ تک اس سڑک پر عام تجارت نہیں ہورہی تھی۔ 
  • ۔ ۲۰۰۸ میں پاکستان اور چین نے آزاد تجارت کے معائدے پر دستخط کر لئے 
  • ۔ ۲۰۰۸ میں پاکستان اور چین نے شاہراہ قراقرم کے ساتھ ساتھ ایک ریلوے لائن کی تعمیر کے بارے میں بات چین شروع کردی ۔
  • ۔ ۲۰۱۳ میں گوادر پورٹ کی انتظامی ذمہ داری چین کے حوالے کر دی گئی 
  • ۔ ۲۰۱۳ میں منظور ہونے والے مجوزہ پاک چین معاشی راہدار ی میں ریلوے لائن کی تعمیر کے علاوہ، آپٹک فائبر کی تاریں بھی بچھائی جائیں گی جبکہ گوادر میں ایک جدید بین الاقوامی ایر پورٹ بھی تعمیر کی جارہی ہے۔ گیس اور تیل پائپ لائن کی تعمیر بھی زیر غور ہے۔ اس سلسلے میں پچھلے پانچ سالوں میں دونوں ممالک کے درمیان متعدد معائدے ہو چکے ہیں۔ 

1 comments:

علی احمد جان اطہر نے لکھا ہے کہ

نور بھائی بہت شاندار
طرزِ تحریر تو آپ کا ہے ہی منفرد ۔۔۔۔۔یہ کالم معلومات سے بھر پور ہے۔
گلگت بلتستان کی معشیت کا لگام تو ہمیشہ سے اغیار کےہاتھوں میں رہا ہے۔ آپ نے بجا فرمایا کہ " بین الاقوامی تجارتی قوتیں اور ملکی سرمایہ دار گلگت بلتستان کی معیشت کو روند کر نکل جائیں گے اور ہم لوگوں کے نصیب میں زناٹے بھرتی ریل اور دوسری گاڑیوں کا دھواں ہی رہ جائیگا۔ "
نور بھائی یہ بھی بتائیے کہ کیا جی بی حکومت اس حوالے سے کوئی اقدامات کر سکتی ہے اور عوام کا ردِ عمل کیا ہونا چاہیے؟؟

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Your comment is awaiting moderation.

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔