Friday, November 08, 2013

آج وہ مر گیا ، جو تھا ہی نہیں - جون ایلیا

(تاریخ وفات ٨ نومبر ٢٠٠٢ )

یوں مجھے کب تلک سہو گے تم 
کب تلک مبتلا رہو گے تم 

درد مندی کی مت سزا پاو
اب تو تم مجھ سے تنگ آجاو

میں کوئی مرکزِ حیات نہیں
وجہ تخلیقِ کائنات نہیں 

میرا ہر چارہ گر نڈھال ہوا
یعنی ، میں کیا ہوا، وبال ہوا

جون غم کے ہجوم سے نکلے 
اور جنازہ بھی دھوم سے نکلے 

اور جنازے میں ہو یہ شورِ حزیں
آج وہ مر گیا ، جو تھا ہی نہیں 

1 comments:

علی احمد جان اطہر نے لکھا ہے کہ

میں ہوں بھی کیا عجیب اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کرلیا لیکن ملال بھی نہیں
جون|

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Your comment is awaiting moderation.

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔