Thursday, April 17, 2014

کہانی ایک بہادر ایرانی ماں کی، جس نے اپنے بیٹے کے قاتل کو معاف کر دیا

عبداللہ کی ماں اپنے بیٹے کے قاتل کو تھپڑ مارنے کے بعد اسے معاف کر رہی ہے: فوٹو: آرش خاموشی - ایسنا
گلی میں لڑائی ہوئی. معمولی ہاتھا پائی آگے بڑھ گئی، جیسے عموما ہمارے یہاں بھی ہوتا ہے. بلال نامی جوان نے اپنے موزے میں چھپا چاقو نکالا اور عبدللہ پر وار کیا. عبدللہ زخمی ہوا اور پھر اسکی موت واقع ہوئی. یہ واقعہ سات سال قبل پیش آیا تھا. 

بلال کو گرفتار کیا گیا. جرم ثابت ہونے پر اسے پھانسی کی سزا سنائی گئی. کئی بار عبدللہ کے والدین کے کہنے پر پھانسی پر عملدرامد کو موخر کیا گیا. تاہم آخر کار جمعرات (آج) کی صبح بلال کو پھانسی گھاٹ پر پہنچایا گیا. ایرانی قانون کے مطابق پھانسی کے دوران عوام الناس کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی. ان "تماش بینوں" میں بلال کے والدین اور اسکے خاندان کے دوسرے افراد بھی موجود تھے. 

بلال کو زندان سے نکال کر پھانسی گھاٹ پر لایا گیا. وہ روتا، چیختا، چلاتا، رہا.  اسے کرسی پر عین پھانسی کے پھندے کے نیچے کھڑا کیاگیا. اس کے ہاتھ پشت پر بندھے ہوے تھے اور اسکے پاؤں میں زنجیرتھی.

اسکی آنکھوں پر کالی پٹی اور اس کے چہرے پر نقاب چڑھایا گیا.پھندہ بلال کے گردن میں ڈالا گیا. 

پھانسی کا وقت قریب تھا.

بلال کے والدین اور رشتہ دار غم و یاس کی تصویر بنے بے بسی سے سارا منظر دیکھ رہے تھے اور آہ و بکا کر رہے تھے، رو رہے تھے. ہر طرف چیخ و پکار کی آوازیں تھی. 

عبداللہ کی والدہ پھانسی گھاٹ پر گئی. مجمع سانسیں روکے اسے دیکھ رہا تھا. سب کا یہی خیال تھا کہ اپنے بیٹے کے غم میں نڈھال ماں عبدللہ کے پاؤں کے نیچے سے کرسی سرکا کر اسکی زندگی کااپنے ہاتھوں خاتمہ کرے گی. ایرانی قانون کے مطابق مقتولین کے والدین یا قریبی رشتہ داروں کو یہ حق حاصل ہوتا ہے. 

عبداللہ کی ماں اوپر چڑھی اورعبداللہ کو ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کیا. اور اسے معاف کرنے کا اشارہ کیا.غم اور غصے کی شدت کی ماری وہ رحمدل ماں رو رہی تھی. عبداللہ کے والد ںے آگے بڑھ کر اپنے ہاتھوں سے عبداللہ کی گردن سے پھانسی کا پھندہ نکل دیا اور اسے پھانسی کی کرسی سے نیچے اتار دیا. 

عبداللہ کی ماں نے میگا فون ہاتھ میں پکڑا اور مجمعے کے سامنے اپنے بیٹے  کے  قاتل کو معاف کرنے کا اعلان کردیا. قانونی اداروں کے اہلکاروں اور مجمعے میں موجود افراد کو اپنے کانوں اور آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا. 


عبدللہ کی رحمدل ماں نے کہا کہ چند روز قبل اس ںے اپنے مقتول بیٹے کو خواب میں دیکھا تھا اور وہ اپنی ماں کو خواب میں بتا رہا تھا کہ اس کے قتل پرردعمل نہ کیا جائے.

عبداللہ کی ماں نے روہانسی اور جذبات سے بھر پور آواز میں مجمعے کو بتایا کہ اسے اور اسکے شوہر کو لگتا ہے کہ بلال ںے اس کے بیٹے کو قصدا نہیں بلکہ حادثاتی طور پر قتل کیا. اور یہ کہ جب قتل کا حادثہ رونماہوا تھا اس وقت بلال اور عبداللہ دونوں سترہ سال کے تھے اور کم عمری میں ناسمجھی کی وجہ سے  یہ گناہ سرزد ہوا. 
بلال کی ماں شکرگزاری کے احساس سے مغلوب عبداللہ کی ماں کے قدموں میں گری ہوئی ہے. جبکہ وہ اسے اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے. فوٹو:  آرش خاموشی - ایسنا  
یہ سن کر مجمعے میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی. بلال کے گھر والے خوشی کے مارے رونے لگے. اسکی والدہ شکرگزاری کے جذبات سے مغلوب ہو کر عبداللہ کی والدہ کے قدموں پر گر گئی. زندان کے باہر بلال کے والد اور اس کے بھائی عبداللہ کے والدسے مل کر روئے. ان کا شکریہ ادا کیا. ان کو دعائیں دی اور روتے ہوے ان سے لپٹ گئے. 

ایرانی قانون کے مطابق بلال موت کی سزا سے تو بچ گیا لیکن اسے پھر بھی جیل میں رہنا ہوگا. اسکے قید کی سزا ختم نہیں ہوئی ہے. 

یہ سارا منظر تصویروں کی شکل میں محفوظ ہوا. میں نے آج صبح عالمی میڈیامیں اسکی تفصیل پڑھی اور سوچ میں پڑ گیا. 

کتنے عظیم اور بہادر ہوتے ہیں وہ لوگ جو سزا دینے کی قدرت اور قانونی جواز رکھتے ہوے بھی گنہگاروں کو معاف کر دیتے ہیں اور کتنے چھوٹے ہوتے ہیں وہ جو طاقتوروں کا انتقام کمزوروں سے لیتے ہیں اور جو بیگناہوں کو مار ڈالتے ہیں. 

1 comments:

qizill hunzai نے لکھا ہے کہ

نور بھائی بہت خوب ، اللہ کرے کہ ہر انسان میں درگذر کرنے کی طاقت پیدا ہو،

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Your comment is awaiting moderation.

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔