Tuesday, March 18, 2014

ملازمت ملازمت ہوتی ہے ، قانونی ہو یا غیر قانونی

بعض اوقات ہمارے رہنما ایسے ایسے منطق لے کر سامنے آتے ہیں کہ دماغ ماوف ہو جاتا ہے۔ اپنے کانوں پر یقین نہیں رہتا کہ جو سن رہا ہوں وہی سنایا جارہا ہے۔ جو سمجھ رہا ہوں وہی بتایا جارہاہے۔ غیر قانونی طریقے سے بھرتی شدہ اساتذہ کے معاملے کر ہی دیکھ لیجیے۔ کئی عاقل و بالغ اور دانا معزز ممبران قانون ساز اسمبلی نے ان اساتذہ کی برطرفی کی مخالفت کرتے ہوے یہ منطق استعمال کیا ہے کہ گلگت بلتستان میں ملازمت کے مواقع کم ہیں اسلئے ان غیر قانونی طور پر بھرتی شدہ ملازمین کو برطرف کر کے ظلم کیا جارہا ہے۔ یعنی بلوچستان کے سابق وزیر اعلی کی منطق استعمال کرتے ہوے وہ بھی بین السطور یہی کہہ رہے ہیں کہ ملازمت ملازمت ہوتی ہے، قانونی ہو یا غیر قانونی ! 

ایک صاحب تو اس حد تک آگے چلے گئے کہ انہوں نے ’’بدنیت غیر قانونی افسران ‘‘ کے خلاف ’’اعلانِ جنگ‘‘ کردیا۔اگر وہ بدنیت اور بدعنوان مقامی افسران، وزیران اور مشیران کے خلاف بھی اعلانِ جنگ کرتے تو بات کافی حد تک سمجھ میں آسکتی تھی۔ لیکن بظاہر انہوں نے اپنی حکومت کی خفت چھپانے کے لئے مقامی اور غیر مقامی کی بحث شروع کرنے کی بھونڈی کوشش کی۔ میں نہیں کہتا کہ غیر مقامی بدنیت یا بدعنوان نہیں ہوتے یا ان کی دیانت پر سوال نہیں اُٹھا یا جاسکتا ۔ ۔ سابق سیکریٹری فنانس ابراہیم عارف کی مثال ہمارے سامنے ہیں۔ لیکن یہ کونسی منطق ہے کہ مقامی سطح پر ہونے والی بدعنوانی کی حمایت میں بیانات دیے جائے اور احتساب کا ایک کمزور اور لغزشوں سے بھرپور عمل شروع کرنے والوں کی مخالفت کی جائے، وہ بھی مقامی اور غیر مقامی کی بنیاد پر؟  کیا وزیر موصوف اُسی کابینہ کے ممبر نہیں ہے جس نے انتظامیہ کو بدعنوانی کے خلاف ایکشن لینے کا حکم دیا تھا؟

ان برطرف شدہ ملازمین کی جگہ پر جو لوگ منتخب ہو کر آئینگے، وہ مریخ اور عطارد سے تو نہیں آئیں گے، وہ بھی اسی گلگت بلتستان کے سپوت ہونگے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ وزیر موصوف کے کچھ ’’اپنے ‘‘ بھی برطرف ہو گئے ہیں، یا پھر برطرف نہیں ہوے ہیں؟ کیونکہ یہ بھی تو درست ہے کہ اگر وزیروں اور مشیروں کے رشتہ دار برطرف نہیں ہوتے ہیں اور ان کے ارد گرد کے لوگ نوکری سے نکالے جاتے ہیں تو اس میں بھی عوامی رائے منقسم ہونے کا خدشہ ہے جس میں ان رہنماوں کا سراسر سیاسی خسارہ ہے ! 


یہ حقیقت تو بہرحال عیاں ہے کہ مذکورہ ۷۳۴ اساتذہ غیر قانونی طریقے سے، یعنی رشوت دے کر، بھرتی ہوے تھے۔ اصول اور قانون کے مطابق تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ بدعنوانی کے انکشاف اور تصدیق کے بعدان سب کو بیک جنبش قلم برطرف کر کے ساری آسامیاں مشتہر کی جاتیں، اور ان افراد کو بلیک لسٹ کر کے ان پر مقابلے کے امتحان میں شریک نہ ہونے کی پابندی لگا جاتی اور گلگت بلتستان کے قابل نوجوانوں کو شفاف طریقے سے منتخب کر کے تعلیم جیسے اہم اور نازک معاملے کا بیڑا اُٹھانے کے قابل بنایا جاتا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا. جسکے اپنے نقصانات ہیں۔ یہ نقصانات فوری اور کچھ بظاہر لوگوں کے لئے واضح نہیں ہیں۔ لیکن ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ میرٹ کا یہ قتلِ عام ان سیاستدانوں اور حکمرانوں کے جانے کے بعد بھی گلگت بلتستان کی ترقی اور غریب طلبہ و طالبات کی بہتر مستقبل کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرتا رہے گا۔


اب اسی معاملے کے ایک اور پہلو پر گفتگو کرتے ہیں۔ جب ان سینکڑوں افراد سے رشوت لے کر ان بھرتی کیا جارہا تھا تو ہمارے حکمران کیا کر رہے تھے؟ ہماری سول سوسائیٹی، دانشور، نوجوان اور میرٹ کے دلدادے کیاکررہے تھے؟ وہ ادارے کیا کر رہے تھے جنکی ذمہ داری بنتی ہے کہ علاقے میں غیر قانونی کاموں پر نظر رکھی جائے اور ان کی بیخ کنی کے لئے فوراً اقدامات اُٹھائے جائیں؟ اسی سوال سے ایک اور سوال یہ اُبھرتا ہے کہ آخر وہ کونسے ادارے ہیں جنکی ذمہ داری بنتی ہے کہ انتظامی اور حکومتی کاموں میں شفافیت یقینی بنایا جائے؟

دنیا بھر میں پارلیمانی کمیٹیاں اور خصوصا پبلک اکاونٹس کمیٹی کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ متعلقہ حکومتی اداروں اور افراد کے کاموں پر نظر رکھے اور کسی بھی بدعنوانی کو نہ صرف طشت از بام کردے بلکہ عدالتوں کے ذریعے ان کو سزا بھی دلوائے۔ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں پبلک اکاونٹس کمیٹی اور متعدد دوسری پارلیمانی کمیٹیاں بھی موجود ہیں ۔ متعدد سراغ رساں ادارے بھی موجود ہیں اور ان سب کے علاوہ ، گلگت بلتستان میں ایک انتہائی متحرک علاقائی میڈیا بھی موجود ہے جو گزشتہ چار سالوں سے تقریباً ہر روز بدعنوانیوں اور رشورت خوری کے حوالے سے خبریں، تجزئے ، مضامین اور اداریے شائع کرتا رہاہے۔ ایسے میں بدعنوانی کا یہ ننگا کھیل اتنی دیر تک کیسے جاری رہ سکا؟ آخر وہ کونسی سیاسی اور انتظامی قوتیں تھیں جو ہزاروں وعدے وعید کے بعد بھی صوبائی پبلک سروس کمیشن بنانے کی راہ میں رُکاوٹیں کھڑی کرتے رہے؟ 


یہ سوال ہم سب کو اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے اور اسکا جواب بھی تلاش کرنا چاہہیے۔ اگرہمارا معاشرہ بدعنوانی کی آگ میں جلتا رہے اور ہم تماشا دیکھنے میں مشغول رہے تو پھر ہمیں تنقید کا بھی حق نہیں ہے، بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ ایسی صورتِ حال میں ہم سب اس جرم میں بلاواسطہ شریک تصور کیے جائیں گے۔ 


مانا کہ ہماری اسمبلی بے اختیار ہے اور اس میں چھوٹے بڑے مسائل حل کرنے کی سکت اور صلاحیت نہیں ہے. لیکن اس صورتحال میں ہم ، یعنی عوام، کی غلطی بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے. یہ بھی تو حقیقت ہے کہ ہمارے ہی لوگوں نے بینکوں سے قرضے وصول کر کے رشوتیں دیں اور وصول بھی کیں۔ یہ بھی تو حقیقت ہے کہ ہمارے ہی لوگ اس رشوت ستانی کے عمل میں براہِ راست شامل رہے ۔ یہ بھی تو حقیقت ہے کہ ہم لوگ اس عمل کے دوران خاموش رہے یا پھر مضبوط آواز نہیں اُٹھا سکے۔ یہ بھی تو ایک اٹل حقیقت ہے کہ اسمبلی کے ان اراکین کی مخالفت کی گئی ، انک کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی دھمکیاں دی گئی جو رشوت خوری اور بدعنوانی کے خلاف اُٹھا رہے تھے۔ ان حقائق کی روشنی میں ہم سب کو اپنے گریباں میں جھانکتے ہوے نادم ہونے اور اپنے مستقبل کے ہونہواروں سے معافی مانگنے کی ضرورت ہے اور ہمیں یہ بھی توبہ کرنی چاہیے کہ کرپشن کے معاملے پر ہم نہ تو خاموش رہیں گے نہ ہی خود اس میں کسی بھی سطح پر شامل ہونگے۔


جہاں تک گلگت بلتستان میں ملازمتوں کے مواقع کم ہونے کی بات ہے تو اس سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔ یہ تو نوشتہ دیوار ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ نوکری کے مواقع اس طرح فراہم کئے جائے کہ تمام سرکاری ادارے سفارشی، رشوت دہندگان اور نااہل افراد سے بھر جائیں۔ اگر ایسا ہوا تو پھر اداروں کی کارکردگی کا توستیاناس ہو جائیگا۔ ترقی اور بہتری کی بجائے تنزلی اور ابتری کی صورتحال پیدا ہو جائیگی۔ نوکریوں کے مواقع پیدا کرنے کی ذمہ داری حکومت اور ریاستی اداروں کی ہے ۔ اسکے لیے علاقے میں صنعتیں لگائی جاسکتی ہیں، امن و امان کی صورتحال بہتر بنا کر روزگار کے مواقع فراہم کیے جاسکتے ہیں، نوجوانوں اور تعلیم یافتہ افراد کو چھوٹے کاروبار کی طرف راغب کیاجاسکتا ہے ۔ ہم سارے اپنے علاقے کے پہاڑوں میں چھپے ذخائر کے گن گاتے ہیں جن سے فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے۔ بین الاقوامی اور ملکی صنعت کاروں کو علاقے میں صنعتکار ی کی ترغیب دی جاسکتی ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ ہزاروں عملی منصوبے اور طریقے ہیں جن سے روزگار کے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ 


غیر قانونی اور غیر اخلاقی طریقوں سے لوگوں کو نوکریاں دینا اس علاقے کے مستقبل کو معاشی اور سماجی طور پر اپاہج کرنے کے برابر ہے۔اس جرم میں شریک ہونے اور اس کا دفاع کرنے کی بجائے ہمارے معزز ممبران اسمبلی اور وزراء کو اخلاقی اور قانونی حدود و قیود میں رہتے ہوے میرٹ اور قابلیت کی طرفداری کرنی چاہیے۔ ورنہ لوگ یہی سمجھیں گے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق چلنے والے اس علاقے کے مستقبل کا کوئی والی اور واث نہیں ہے ۔ 


0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Your comment is awaiting moderation.

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔