Tuesday, March 05, 2013

کیا انٹرنیٹ وخی اور دوسری چھوٹی زبانوں کے لئے رحمت ثابت ہوسکتا ہے؟



یہ ویڈیو دیکھنے میں بہت معمولی سا لگتا ہے۔ کچھ اصحاب رباب اور دف اُٹھاے ایک نامانوس زبان میں گانے گا رہے ہیں، جبکہ ایک پیاری سی بچی انگریزی میں کچھ کلمات ادا کر رہی ہے۔

تاہم، بظاہر معمولی لگنے والے اس ویڈیو کے ذریعے مشرق وسطی کے خود مختار ملک تاجکستان کے علاقے بدخشان میں مقیم وخی زبان بولنے والے اپنے پاکستانی، افغانی اور چینی ہم زبانوں کے ساتھ ایک انوکھے اندازمیں، ارادی یا غیر ارادی طور، جانے انجانے میں ہمکلام ہو رہے ہیں۔

 سینکڑوں سالوں سے مختلف وادیوں کو اپنا مسکن بنانے والے ایک ہی ثقافتی گروہ کے یہ افراد ایک دوسرے سےعملا کٹے ہوئے تھے، اور ان کے درمیان کوئی قابل ذکر روابط نہیں تھے۔ البتہ اکا دکا تجارت پیشہ افراد مہینوں کی مسافت طے کر کے دشوار گزار پہاڑوں سے ہوتے ہوے دوسرے علاقوں میں جاتے تھے، لیکن سفری  اور موسمی مشکلات کی وجہ سے عام افراد کے درمیان کوئی رابطہ نہیں تھا۔

لیکن انٹرنیٹ کی جدید ٹیکنالوجی نے ان جغرافیائی دوریوں کو گویا ختم کر دیا ہے۔ اب سینکڑوں لوگ فیس بک اور مختلف ویب سائٹس کے ذریعے دوبارہ رابطے میں آرہے ہیں اور اپنی ثقافت کو یاد کرنے، زندہ رکھنے اور پروان چڑھانے کی کوششیں کرتے نظر آتے ہیں۔ آج کل دیکھنے میں آیا ہے کہ اس طرح کے سینکڑوں ویڈیوز ہر روز انٹرنیٹ پر شیر کئے جاتے ہیں جن کی وجہ سے جغرافیائی اور سیاسی سرحدوں کے آر پار ثقافتی مماثلتیں رکھنے والے گروہ ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں اور اپنی ثقافتی وابستگیوں کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ 

مثبت انداز میں دیکھا جائے تو اس طرح کے سماجی روابط چھوٹی زبانوں اور ثقافتوں، خصوصا وخی زبان بولنے والوں، کے لئے آب حیات کی مثال رکھتے ہیں، کیونکہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے وخی کو خطرے کی زد پر موجود زبان قرار دیا ہے۔ 

یاد رہے کہ ہند-ایرانی (Indo Iranian) زبانوں کے گروہ سے تعلق رکھنے والی اور فارسی سے تھوڑی بہت مماثلت رکھنے والی زبان، وخی (ماخذ: وخان)، کی اب تک کوئی واضح اور متفقہ رسم الخط وجود میں نہیں آئی ہے جسکی وجہ سے اس زبان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

تمام تر کاوشوں کے باوجود جدید دور میں وخی زبان کے لئے ایک متفقہ رسم الخط بنانے کے عمل  میں متعلقہ افراد اور اداروں کو سخت مشکلات کا سامنا ہےکیونکہ سوویت یونین کے زیر اثر علاقوں میں سیریلیک (روسی) رسم الخط مستعمل ہے جبکہ افغانستان اور پاکستان میں عربی اور رومن رسم الخط استعمال کیے جاتےہیں۔ کچھ ذرائع کے مطابق چین کے سرحدی علاقہ جات میں آباد وخی زبان بولنے والے چینی اور عربی رسم الخط استعمال کرتے ہیں۔ 

انٹرنیٹ کے ذریعے دوبارہ رابطے میں آنے کے بعد وخی زبان بولنے والے اپنی ثقافتی شناخت کی وسعت سےآشنا ہونے کے ساتھ ساتھ یہ امید بھی پا رہے ہیں کہ شائد ان کی زبان اور ثقافت مکمل طور پر تباہ و برباد ہونے سے بچ جائے۔ 

علمی اور فکری سطح پر ماضی میں ایسے اندیشے بھی ظاہر کیے گئے ہیں کہ انٹرنیٹ اور دوسرے میڈیا کے ذریعے پروان چڑھنے والی عالمگیریت، جسے ایک عفریت بھی سمجھا جاتاہے، کی وجہ سے چھوٹی زبانیں اور چھوٹے ثقافتی گروہ اپنی شناخت کھو بیٹھیں گے۔ تاہم ، وخی بولنے والوں کے معاملے میں ایسا لگ رہا ہے کہ خطرات کے علاوہ انٹرنیٹ کی ٹیکنالوجی سماجی روابط بڑھانے اور ثقافتی شناخت کو مضبوط کرنے کے مواقع بھی فراہم کر رہا ہے۔

عین ممکن ہے کہ گلگت بلتستان اور پاکستان، بلکہ ساری دنیا کی دوسری چھوٹی زبانیں اور ثقافتیں بھی انٹرنیٹ اور دوسرے ابلاغی ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنی شناخت کو مضبوط کرنے اور ثقافتی استحکام حاصل کرنے کے قابل بن جائیں گے، تاہم اس کے لئے متحرک افراد اور اداروں کی ضرورت ہوگی جو اس موقعے اور وسیلے کو مثبت اور موثر انداز میں بروئے کار لا کر انسانی ثقافتی ورثے کو مستحکم بنا دے۔

3 comments:

Anonymous نے لکھا ہے کہ

بہت اچھی بات ہے ک زبان کو اہمیت دی جارہی ہے۔ لیکن جو عالمگیریت اور سرمایہ داری کے ساتھ لبرل جمہوریت نے ان چھوٹی زبانوں کےلئے اپنے وجود کو برقرار رکھن ناممکن نہیں تو مشکل ضرور کردیا ہے۔
اب لوگ اپنی زبان سیکھنے سے زیادہ ایسی بین الاقوامی زبان سیکھنے پر زور دیتے ہیں جو روزی کمانے میں ممد ومعاون ثابت ہو۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ گلگت بلتستان کی ساری زبانوں کی کوئی تحریری تاریخ ، قاعدہ، رسم الخط اور ادب کا پچھلے پچاس سال تک کوئی وجود نہیں تھا۔ جب یہ اجزا پروان چڑہنے لگیں تو اردو، انگریزی اور فارسی و عربی کے اثر میں اتنی آچکیں تھیں کہ اب ان ساری زبانوں میں کم و بیش چالیس فیصد دوسری زبان کے الفاظ شامل ہوگئے۔ سائنسی ایجادات نے انگریزی کے الفاظ بلا تحریف شامل کردئے جو بڑی شدومد سے جاری ہے۔ یہ زبانیں شاید س-ڈی ، کسٹ اور کبابوں کی شکل میں رہیں ۔ معاشرے کے اندر سے اپنی اصلی صورت کے لحاظ سے دھیرے دھیرے ان کا وجود معدوم ہوتا دکھائی دے رہا ہے

نور پامیری نے لکھا ہے کہ

آپ کی رائے سے اختلاف کی گنجائش نہیں ہے۔

کسی بھی زبان میں الفاظ کی داخلیت اور خارجیت ایک آفاقی حقیقت ہے۔ اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ زیادہ تر ایجادات اور ان سے منسلک الفاظ اور تراکیب استعمال کرنے پر ہم مجبور ہیں، کیونکہ ایجادات کرنے کی ہم میں سکت نہیں ہے۔

تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ مقامی زبانوں میں در آنے والے الفاظ و تراکیب کو ایک خاص تناسب سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے، تاکہ زبان کی اصلی شناخت متاثر نہ ہو۔ لیکن یہ "تناسب" کتنا ہو، اسکا تعین کرنا پیچیدہ اور تحقیق طلب ہے۔

یقینا ہماری زبانیں اور ہماری ثقافتیں مختلف خطرات کی زد پر ہیں۔ ان خطرات میں عالمگیریت کے ساتھ ساتھ معاشرے میں مذہبی عدم برداشت کا رویہ اور بنیاد پرستی بھی شامل ہیں۔ ایسا بھی دیکھنے میں آرہا ہے کہ مختلف علاقوں میں مذہبی طبقات کے زیر اثر صدیوں سے رائج ثقافتی تہواروں اور روایات کی دلشکنی کی جارہی ہے۔اسکا اثر یہ ہورہا ہے کہ ان تہواروں اور روایات سے منسلک الفاظ و تراکیب بھی دھیرے دھیرے اپنی اہمیت کھو رہے ہیں۔

ان خطرات کا سامنا کرنے کے لئے حکومت اور ریاستی اداروں کی خدمات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عام لوگوں اور سماجی و ثقافتی اداروں کو بھی متحرک کردار ادا کرنا ہوگا۔

Hashir Majoka نے لکھا ہے کہ

زبانیں ایک زندہ جسم کی مانند ہوتی ہیں جن میں دوسری زبانوں کے الفاظ کا در آنا در حقیقت تازہ خون کی آمد
کے مترادف ہوتا ہے

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Your comment is awaiting moderation.

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔