Wednesday, June 27, 2012

راجا اعظم خان - راجگی سے وزیری تک

لو بھئی.

قوم کو مبارک ہو.

سابق ریاست شگر کا راجہ اعظم خان اب گلگت بلتستان حکومت کا وزیر اعظم خان بن گیا. نہیں. وزیر اعظم نہیں. وزیر اعظم خان. جسطرح سے وزیر جعفر ہے یا پھر وزیر جابر!

شاید اسی کو پاکستان پیپلز پارٹی کا کرتا دھرتا، صدر زرداری، "جمہوریت کا انتقام" کہتا ہے.

ابھی مبارکبادیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہونے جا رہا ہے. فیس بک سے لے کر شگرکے گلی کوچوں تک مبارکباد کی آوازیں گونجیں گیں. شادیانے بجاۓ جائیں گے. رقص اور سرور کی محفلیں جمیں گی. "تماشا ہو گا"..... سینکڑوں ... یا پھر ہزاروں ... گاڑیوں پر مشتمل جلوس بھی نکلے گا. سکردو سے شگر تک ایک ریلی نکالی جائیگی اور وزیر اعظم خان کا نعروں، ڈھول کی تاپ، شہنائی کی آواز میں اور تالیوں کی گونج میں استقبال کیا جائیگا.

لیکن ٹھرئیے. زرا اس ہنگام نو سے دور چلتے ہیں. غور و فکر کرتے ہیں. کچھ سوالات پوچھتے ہیں. کچھ جوابات ڈھونڈنے کی سعی کرتے ہیں.

اس وزارت کی گنجائش کہاں سے نکالی گئی؟ کیا ایک نئے وزیر کی ضرورت ہے؟ کیا گلگت بلتستان کے بجٹ میں اتنا دم ہے کہ ایک اور وزیر کا "بوجھ" برداشت کر سکے؟ ابھی ابھی تو خبر چلی ہے کہ نیشنل بینک میں حکومتی اکاؤنٹ خالی پڑا ہے!

لگتا ہے کہ ہماری ارب پتی حکومت کے کروڈ پتی وزیر اعلی اور ان کی لکھ پتی کابینہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ہیں. عوام کی آہ و زاریاں بیکار جاری ہیں. گلگت بلتستان کے ساتھ مسلسل مذاق ہو رہا ہے.

یہ کونسی جمہوریت اور کیسی عقلمندی ہے کہ ایک مکمل اکثریت کے باوجود ایک ملی جلی سرکار بنائی جا رہی ہے؟ وسائل کی کونسی آبشاریں برس رہی ہیں گلگت بلتستان پر جو ایک اور وزیر کو ہم مسلط کیا جا رہا ہے؟ کیا مہدی شآہ بتا سکیں گے کہ وزیروں اور مشیروں کی پھلے سے موجود فوج ظفر موج نے عوام کے کونسے مسائل حل کیے ہیں؟

وزارت تعلمیم میں کرپشن کا اعتراف خود وزیر موصوف کر چکے. وزارت خوراک میں کرپشن کی داستانیں چہار بانگ عالم مشہورہیں. وزارت تعمیرات کو تو ابو کرپشن کا نام دینا چاہیے، اور وزارت داخلہ کو سب سے ناکام ترین وزارت جس کی موجودگی میں نہ تو امن قائم ہو سکا ہے، نا کسی کو جان کی امان حاصل ہے.

میری راجہ اعظم سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں. لوگ کہتے ہیں کہ وہ ایک بہت اچھا انسان ہے. لیکن کیا متوسط طبقے کی نمائیندگی کا دعوی کرنے والی انکی جماعت کو زرا سا بھی احساس نہیں ہے کہ گلگت بلتستان کے وسائل انتہائی محدود ہیں اور سٹیٹ بینک پچهلے تین مہیںوں میں تین بار اسکا حقہ پانی بند کر چکا ہے؟ کیا ان کی جماعت نے یه نہیں سوچا کہ اس غریب صوبہ نما علاقے پر رحم کھاتے ہوے وزارت کی دوڑ میں شامل ہونے سے گریز کیا جائے؟ 

2 comments:

Mamtaz Gohar نے لکھا ہے کہ

Very true. Jis ko is khitay se dard ho, wo is hall ma wazir bannay aur dusrun ko wazir bananay ki kabhi koshish nai karta... Waziroon ki fouj bana kar awam ka thoda bahut jo paisa bachta hai sara un per kharch kar k..... aur wazir ban janay aur banay ki khusiyan manana.... sub samajh se balatar hai... ye bhutto university k phd holder Mehdi Shah hi samajh saktay hain..... Jam k khawo peo lootoo ...Phir is mal-e-Ghanimat ko lootnay ka moqa milay ya na milay.

Sustainable Development نے لکھا ہے کہ

Jahan yeh sub pal rahay hain muft khori par wahan aik aur sahi.

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Your comment is awaiting moderation.

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔