آج فوارہ چوک راولپنڈی میں خون اور آگ کی بارش سے دین اسلام اور مسلمانوں کی کوئی خدمت نہیں ہوئی. اتنا ضرور ہوا کہ کچھ خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہو گئے، اور بہت سارے گھروں میں کہرام مچ گیا. اسلام کی جو بدنامی ہوئی وہ اس کے علاوہ ہے.
تلخ حقیقت یہ ہے کہ عدم برداشت اور تشدد ہمارے رگ رگ میں سرایت کر چکی ہے. ہم ہر چھوٹی بڑی بات پر ایک دوسرے کو قتل کرنے یا پھر نقصان پہنچانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں. حالانکہ مسائل حل کرنے کے اور بھی طریقے ہو سکتے ہیں.
ایک اور انتہائی تشویشناک بات ہے کہ ہم اپنے اور اپنے عقائد کے خلاف کچھ سننے کے لیے تو بلکل تیار نہیں ہیں لیکن دوسروں کے خلاف بولنے اور لکھنے سے باز بھینہیں آتے. اس طرز عمل کے ساتھ امن اور سلامتی کی توقع رکھنا خود فریبی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے.
اللہ رحم فرمائے ! پتہ نہیں ہم کس حال میں جی رہے ہیں
ReplyDelete