Tuesday, May 01, 2018

بے وقعتی

آزادی کا ڈھونگ رچا کر 
قید کیا انسانوں کو

سڑے روایت زندہ رکھے 
قتل کیا ارمانوں کو

سنساں کر دیں شہرکی گلیاں 
سجا دیا زندانوں کو

ریت اندر سر اپنا چھپا کر 
موڑ دیا طوفانوں کو!!

عالم راندہ محفل ٹھرے 
مان ملا دربانوں کو 

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Your comment is awaiting moderation.

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔