Wednesday, July 13, 2016

لندن کہانی - ریجینٹ کینال کے کنارے

کل دوپہر لندن پہنچا۔ ایرپورٹ پر ٹکٹ خریدنے کے بعد پہلی بار زندگی میں ٹرین (ٹیوب) میں بیٹھنے کا موقع ملا۔ زیرِ زمین چلنے والی یہ ٹرین سروس لندن کی جان ہے۔ یہ کچھ گھنٹوں کے لئے رک جائے تو پورے شہر میں ٹریفک جام ہوتے ہیں۔ ایسا کہنا ہے شہرمیں مقیم دوستوں کا۔ 
ٹرین نے ستر منٹ میں کنگز کراس تک پہنچا دیا۔ بارش ہو رہی تھی۔ گھومتے گھامتے، بھیگتے، اور گوگل سے لئے گئے نقشوں، اور اتفاقاً ٹکراجانے والے ایک ہموطن، کی مدد سے جائے رہائش کا پتہ چلا ہی لیا۔ رات اچھی گزری۔ اپنوں کے ساتھ ملنے اور وقت گزارنے کا موقع ملا۔ خاطر مدارت کی گئی۔ اور خدمت اور محبت کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ 

آج دیر سے اُٹھا۔ رضوان صاحب کے ساتھ شہر کے کچھ حصوں کو دیکھنے کا موقع ملا۔ صفائی دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ رضوان صاحب کہتے ہیں کہ صبح پانچ بجے ہی صفائی کا عملہ بلا ناغہ کام میں جت جاتا ہے۔ 
شہر کے وسط سے ریجینٹ کنال نامی نہر گزرتی ہے، جو آگے جا کر مشہور دریا تھیمز کا حصہ بن جاتی ہے۔ نہر کو خصوصی توجہ سے صاف رکھا جارہا ہے۔ نہرکے کنارے جابجا کاورباری مراکز اور رہائشی عمارات موجود ہیں۔ اگر یہ نہر ہمارے ملک میں ہوتا تو شائد نالہ لئی جیسا ہی ہوتا ۔۔۔ 

ریجینٹ کینال کے کنارے پر سائیکل سواروں اور پیدل چلنے والے کے لئے راستے تعمیر کئے گئے ہیں ۔بعض مقامات پر پرانے طرز کے پل بھی بنے ہوے ہیں۔ نہر میں کشتیاں چلتی ہیں، اور "بوٹ ہاوسز" بھی ہیں جن میں لوگ کرایہ دار کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں۔ 
جن علاقوں کو ہم نے دیکھا ان میں ہر رنگ اور نسل کے لوگ کاروبارِ زندگی میں مصروف ہیں۔ برقعے میں ملبوس خواتین کو بھی دیکھا اور ان کو بھی جو مختصر لباس پہننے کو ترجیح دیتے ہیں۔ رنگدار بالوں والی خواتین اور مرد بے تحاشا دکھے۔ نوجوانوں کی یہ جدید نسل میڈیائی "پاپولر" کلچر کے تابع نظر آتی ہے۔ یا پھر شائد میڈیا ان نوجوانوں کی جدید ثقافتی رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔
شہر میں ہر طرف سیکیورٹی کیمرے نصب ہیں، اور کیمرے کے ساتھ ہی چھوٹی سی تختی پر لکھا ہوا بھی ہے کہ آپ پر ہماری نظر ہے۔۔۔۔۔۔ یعنی مشتری ہوشیار باش!۔۔۔۔۔۔ رضوان صاحب نے کہا کہ شہر میں اس طرح لاکھوں کیمرے لگے ہیں۔ شائد اسی لئے شہر میں جرائم بہت کم ہوتے ہیں۔ رییجینٹ کینال کے کنارے کچھ نشئی اور بے گھر افراد نظر آئے۔ نشہ بیچنے والے افراد بھی جابجا ٹکرائے ۔۔۔۔۔ اور ایک دو پولیس والے بھی گشت کرتے ہوے نظر آئے۔ 
شہر میں موسم مزاج یارکی طرح برہم ہے۔  دھوپ کم ہے، خنکی اور نمی زیادہ۔ وقفے وقفے سے بارش بھی ہو رہی ہے۔  برطانیہ ایک جزیرہ ہے۔
میڈیا کے مطابق شہرکا سیاسی موسم بھی ابر آلود ہے۔ منتخب وزیرِ اعظم نے یورپین یونین سے انخلا کے بعد استعفی دیا تھا اور آج برطانیہ کی تاریخ کی دوسری خاتون وزیرِ اعظم نے منصب سنبھالا ہے۔ لیکن شہر میں کوئی ہوائی فائرنگ ہے نہ جیالوں متوالوں کا رقصِ بد تمیزی۔ کاروبارِ زندگی رواں دواں ہے۔۔۔۔۔۔ 

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Your comment is awaiting moderation.

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔