Monday, December 30, 2013

ایک اور سال ۔۔۔۔



ایک اور سال گزر گیا۔

شکر ہے کہ اب تک جسم اور جان سلامت ہیں۔ ابھی رگوں میں خون باقی ہے۔ آنکھوں میں چمک ہے۔ اب بھی امید کی کچھ ٹمٹماتی کرنیں اندھیرے میں رہبری کر رہی ہیں۔ ایسا کیوں ہے، مجھے نہیں معلوم۔ 


بڑے بڑے لوگ گزر گئے۔ نیلسن منڈیلا چلا گیا۔ اتنے سارے لوگ چلے گئے۔ میں ۔۔۔ جو کسی شمار میں نہیں، کسی قطار میں نہیں ۔۔۔ میں بھی چلا جاتا۔ کس کے بس میں تھا کہ ہونی کو روکے؟ لیکن یہ عظیم ہستی، جس کے دم سے دنیا کی رونق تھی، اور جس کی زندگی کروڑوں افراد کے لیے قیمتی تھی، چلا گیا ۔۔۔ لیکن ہم اور آپ ابھی باقی ہیں۔جانے ، یا انجانے ، ملک الموت کے منتظر ہیں۔ ہر قدم موت کی جانب ہے۔ نہ جانے کس موڑ پر لپک کر سامنے آجائے اور دبوچ کر نگل جائے۔ 

کوئی روک سکتا ہے؟ نہیں ۔
کوئی روک پایا ہے؟ نہیں۔ 

تسلیم کر لیجیے کہ یہ زندگی کی مہربانی ہے کہ اب تک برداشت کیے جارہا ہے۔ ورنہ میں کس کھاتے میں، آپ کس کھاتے میں۔

جب یہ ثابت ہو گیا کہ زندگی کو ہماری نہیں بلکہ ہمیں زندگی کی ضرورت ہے تو پھر ہم اس مختصر نعمت کی قدر کیوں نہیں کرتے؟ کیوں ہم اپنے اور دوسروں کے لیے مسائل پیدا کرنے کی تگ و دو میں مصروف نظر آتے ہیں؟ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ہم میں سے بہت سارے لوگ زندگی نفرت کے سائے میں گزارتے ہیں، اور دوسرے کو گزند پہنچانے، نیچے دکھانے، کمتر ثابت کرنے، غلط ثابت کرنے اور اسی طرح کے دوسرے منفی جذبات کو ہی اپنا مقصد حیات اور طرہ امتیاز بناتے ہیں؟ 

آپ بتائیں ۔۔۔ کیا ایسا نہیں ہو رہا؟ فلاں کا فرقہ غلط۔ فلاں کا طریقہ عبادت غلط۔ فلاں کی نیت خراب۔ فلاں اُس کا ایجنٹ۔ فلاں اس سازش میں شریک۔ فلاں کی باتیں ریاکاری پر مبنی۔ فلاں کی ہر حرکت ملکی، قومی اور علاقائی مفاد کے خلاف۔ فلاں دین کا دشمن، فلاں ایمان کا دشمن۔ کیا ہم میں سے بہت ساروں کی زندگی بس انہی باتوں کے متعلق بحث کرتے اور سوچتے ہوے نہیں گزر رہی ؟ کیا شک اور بداعتمادی نے ہمیں اپنے مضبوط شکنجے میں نہیں کسا ہے؟ کیا ہم ایک دوسرے کی جھوٹے منہ تعریفیں نہیں کرتے؟ اور کیا ہم میں سے بہت سارے بغل میں چھری، منہ میں رام رام کی زندہ تصویر بنے نہیں پھرتے؟ 

ان سب ’بے ضرر‘ اعمال کو چھوڑیے کہ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق فکر اور گفتار سے ہے، عمل سے نہیں۔ منفی فکر ہی منفی عمل کی بنیاد بن جاتی ہے، لیکن فی الحال اس بحث میں نہیں الجھتے ہیں.  

ان کے بارے میں سوچیں جنہوں نے اپنی زندگی کا مقصد تشدد، قتل و غارت اور فسادبرپا کرنا بنایا ہے۔ انکی سفاکی اور بے رحمی کی تصویریں اور فلمیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ یہ کبھی فرقے کے نام پر قتل و غارت کرتے ہیں، کبھی مذہب کے نام پر، کبھی بھتے کے لیے اور کبھی جرم کی دنیا میں سفاکیت کے بل بوتے اپنا نام بنانے کے لئے۔

جی ہاں۔ بہت سارے مذہبی اور غیر مذہبی غنڈے اپنی دھاک بٹھانے کے لیے انسانی کھوپڑیوں سے فٹ بال کھیل رہے ہیں۔ لوگوں کی کھالیں اتار کر انہیں درختوں کے ساتھ ٹانگ رہے ہیں۔ وہ وحشت برپا کردیا جارہا ہے کہ درندے شرما جاتے ہیں۔

 کیا آپ کو بھی ایسا لگ رہا ہے کہ ہر گزرتے سال کے ساتھ سفاکیت اور بربریت میں اضافہ ہو تاجارہاہے۔ ایسے ایسے طریقوں سے ایک دوسرے کو مارا جارہا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔  المیہ یہ ہے کہ اس تخریبی عمل میں سفاک تخلیقی صلاحیتیں استعمال ہو رہی ہیں. 

خوش فہم لوگ وقت کے ساتھ ساتھ تہذیب اور تمدن میں ترقی کی وجہ سے انسانی اقدار میں بہتری اور ایک دوسرے کے لیے خیر سگالی کے جذبات میں اضافہ دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن سیاست ، دولت، ذاتی انا اور لالچ کے مارے ذہنی بیمار ان خوش فہموں کو ہمیشہ لاجواب کردیتے ہیں۔ ان کی امید کے گلے پر چھرا پھیر دیتے ہیں۔ معاشرہ تنزلی کی طرف لڑھکتا جاتا ہے۔ کونے کھدروں میں چھپے دانشور کمزوری اور تشکیک میں لتھڑی آواز اُٹھاتے ہیں۔ اتنی مدھم آووازیں کہ وہ خود بھی انہیں سن نہیں پاتے. 

اور پھر ایک سال گزر جاتاہے۔ 

1 comments:

علی احمد جان اطہر نے لکھا ہے کہ

"چاٹتی ہے آج بھی انسانیت اپنا لہو"
نور بھائی "بلبل کو باغباں سے نہ صیـاد سے گلہ " والی بات ہے۔
جس طرح پانی کا راستہ روک کر کسی مخصوص سمت کی طرف رخ موڑ دیا جائے تو وہ اپنے لئے ایک راستہ بنا لیتا ہے۔ ان لوگوں کی مثال بھی ایسی ہی ہے۔ انہیں ریموٹ کنٹرول پر "کوئی اور" چلا رہا ہوتا ہے۔ شکوہ فقط یہ ہے کہ وہ خود سوچتے نہیں ہیں۔

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Your comment is awaiting moderation.

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔