Wednesday, November 27, 2013

’’ اعتبار نہیں کرنا۔۔۔۔۔ انتظار نہیں کرنا ۔۔۔۔‘‘

جی نائین مرکز میں واقع الفلاح بینک کے قریب پہنچ کر میں نے ڈرائیور سے کہا کہ وہ ٹیکسی روک دے۔ 

’’یار دو منٹ کے لئے انتظار کرنا۔ میں موبائل فون کی دکا ن سے بیٹری خرید کر لاتا ہوں۔ کل سے میرا موبائل بند پڑا ہے‘‘۔ 

’’اچھا ، ٹھیک ہے۔ میں یہی پر انتظار کرتا ہوں‘‘۔ اس نے جواب دیا۔ 

پھر کچھ ہی لمحوں کے بعد وہ  کہنے لگا کہ میں اسے جانے سے پہلے پیسے دے دوں۔


’’بھائی برا مت منانا، لیکن بہت سارے لوگ ٹیکسی سے اترنے کے بعد واپس نہیں آتے۔ میرے ساتھ بہت دفعہ ایسا ہوا ہے.  آپ پلیز مجھے پیسے دے کر جائیں۔ میں یہی کونے میں آ پ کا انتظار کرتا ہوں‘‘۔ 


میں اسے دیکھ کر مسکرایا اور بولا کہ اسے مجھ پر اعتبار کرنا چاہیے. 

وہ شرمندگی کے آثار رکھنے والے لہجے میں پھر سے بولا کہ میں اسے پیسے دے دوں. اور بار بار "سوری" بھی کہہ رہا تھا. 


میرے پرس میں ایک  ہزار روپے کا نوٹ پڑا تھا جو میں نے اُسے تھما دیا۔ 

’’ بھائی آپ یہ گاڑی کی چابی رکھ لو۔ میرے پاس چینج نہیں ہے‘‘، اس نے اپنی جیب میں تھوڑی دیر تک دیکھنے کے بعد کہا.

 میں نے کہا کہ خیر ہے. ہزار کا نوٹ رکھ لو. کوئی بات نہیں ہے۔ واپس آ کر حساب برابر کرتے ہیں. 

وہاں سے میں الفلاح بینک کے اے ٹی ایم مشین تک گیا، کچھ پیسے نکالے اور پھر بیٹری کی تلاش میں لگ گیا۔ تین چار دکانوں میں ناکامی کے بعد آخر کار مجھے موبائل کی بیٹری مل گئی۔ میں نے پیسے ادا کیے اور واپس روڑ کے اس حصے کی طرف چل پڑا جہاں ٹیکسی سے اترا تھا۔

ٹیکسی اپنی جگہ پر نہیں تھی۔ 

تھوڑی دیر ادھر ادیکھنے اور انتظار کرنے کے بعد آخر مجھ پر آشکار ہوا کہ ٹیکسی ڈرائیور ۱۰۰۰ روپے کا نوٹ لے کر فرار ہو چکاہے۔

بے بسی کے عالم میں گاڑیوں کو پھر سے ایک دفعہ دیکھا لیکن ٹیکسی ندارد۔ 

منہ لٹکائے گھر کی طرف جانے لگا کہ قریب ایک اور ٹیکسی آکر رُکی۔ 

’’کہاں جانا ہے بھائی‘‘۔

میں نے اسے پتہ بتا دیا۔ رقم طے ہوئی اور میں ٹیکسی میں بیٹھ گیا۔ 

’’کوئی گانا چلا دو یار‘‘۔ تھوڑی دور جانے کے بعد میں نے اُس نوجوان ڈرائیور سے کہا۔ میں اپنے دماغ کو فریش کرنا چاہ رہا تھا.  

اس نے جھٹ سے ایک بٹن دبا دیا ۔ کچھ ننھی منھی روشنیاں جھلملائی اور گانا شروع ہوگیا۔

’’اعتبار نہیں کرنا۔۔۔۔۔ انتظار نہیں کرنا ۔۔۔۔ ‘‘

گانے کے بول سن کر مجھے زوردار ہنسی آئی۔ ڈرائیور نے حیرت سے میری طرف دیکھا۔ 

’کیا ہوا بوس‘‘، اس نے پوچھا۔ 

میں جواب میں گنگنانے لگا ۔۔۔۔ 

’اعتبار نہیں کرنا۔۔۔۔۔ انتظار نہیں کرنا ۔۔۔۔'

4 comments:

Zaman Punyali نے لکھا ہے کہ

آپ کے نقصان کے لیے دلی ہمدردی اور اس خوبصورت روداد کےلیے بہت بہت مبارک باد

Muhammad adeel Hussain نے لکھا ہے کہ

ہمارے معاشرے کے ایک کونے کی اچھی تصویر کشی کی ہے۔

S.B Aziz نے لکھا ہے کہ

Tittle song of this short drama is awesome ;) but sorry for the loss :P

علی احمد جان اطہر نے لکھا ہے کہ

بہت خوب۔۔۔۔۔۔۔ جناب یہی تو مسلہ ہے ۔ اس ملک کا فرد استطاعت کے کے مطابق کرپشن کرتا ہے۔

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Your comment is awaiting moderation.

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔