Monday, February 13, 2012

میں بیوفا نہیں ہوں

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے آپ بیتی لکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے. "چاہ یوسف سے صدا" کے بعد یہ انکی دوسری کتاب ہوگی.

اس کتاب میں گیلانی صاحب اپنی وزارت کے آخری چار یا پانچ مہنیوں سے  متعلق رازوں پر سے پردہ فاش کرنا چاہتے ہیں. ان کی حکومت ایک ایسے موڑ پر آگئی ہے جہاں سے آگے کا راستہ جیل کی سمت نکلتا ہے، یاپھر صدارتی معافی نامہ کی طرف.

ان دونوں راستوں میں سے موصوف کونسا منتخب کریں گےیہ تو وقت ہی بتائیگا. لیکن اپنی مجوزہ آپ بیتی کا نام "میں بیوفا نہیں ہوں" رکھ کر آپ جناب نے جگت بازی کے لیے اچھا خاصا سامان مہیا کیا ہے.

ایک صاحب نے کتاب کانام سن کر "ری ایکشن" میں  لکھا ..
"کتاب کے نام میں ترمیم کی ضروت ہے...

"میں بیوفا نہیں ہوں، بدکردار ہوں".

 دوسرے صاحب نے تجویز دی ... "میں بیوفا نہیں ہوں، کیسے تمہیں بتاؤں، افسانہ بے بسی کا کیسے تمہیں سناؤں" گویا ایک ہندی دوگانے کا پہلا بند لکھ ڈالا، اور گیلانی صاحب کی "اصلی مجبوری" پر سے  پردہ بھی اٹھا دیا. 

تیسرے صاحب نے جملہ کسا... "میں بیوفا نہیں، زرداری کا وفادار ہوں". 

"میں" سے شروع ہونے والی ایک اور کتاب، "میں باغی ہوں" ہے، جسے تحریر کر کے قبلہ جاوید ہاشمی نے ایک سیاسی سٹیٹمنٹ دیا تھا. 

شاید گیلانی صاحب بھی اسی طرح کا کوئی پیغام دینا چاہتے ہیں، لیکن نہ تو "میں بیوفا نہیں ہوں" میں کوئی مثبت تاثیر ہے نہ ہی اس سے کوئی مضبوط پیغام آگے جا سکتاہے. ایسا لگتا ہے جسے کسی ناکام عاشق کی کتھا لکھی جارہی ہے، جس سے نہ تو دنیا والے خوش ہیں، نہ ہی اسکا محبوب.

ایک زاویے سے اس کتاب کو تحریری اعتراف شکست بھی کہا جا سکتاہے کیونکہ چار سال حکومت میں رہنے کے باوجود گیلانی سرکار نہ تو لوگوں کو ریلیف دے سکا ہے، نہ ہی سکون. تباہی اور مہنگائی ہے، یا پھر سازشیں اور شورش .

غالبا گھاگھ سیاستدان، یوسف رضا گیلانی، یہی کہنا چاہ رہے ہیں کہ میرے کردار اور میری طرز حکومت پر تو بات کی جاسکتی ہے، لیکن زرداری صاحب سے میری وفاشعاری پر نہیں.  

2 comments:

farmuda نے لکھا ہے کہ

nice

Noor Muhammad نے لکھا ہے کہ

Thanks :)

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Your comment is awaiting moderation.

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔