شہر آشوب کے نظاروں سے
میں تو اکتا گیا ہوں یاروں سے
شاخ گل کو جو تار تار کریں
خوف لاحق ہے ان بہاروں سے
والی شہر سو گیا شا ید
خون بہنے لگا میناروں سے
ہم رخ یار کی تپش سے جلے
لوگ بچتے رہے شراروں سے
حادثے زندگی کے کہتے ہیں
موج اچھے ہیں ان کناروں سے
کرب دل کا بیان کیسے کروں؟
کوئی پوچھے لہو کے دھاروں سے
No comments:
Post a Comment
Your comment is awaiting moderation.