آوارہ خیال
Tuesday, April 13, 2010
دھمال ہونے کو ہے . ١
دھمال ہونے کو ہے
تھوڑی دیر رک جاو!
ابھی نہ جاو
ابھی چند چھوٹے لمحوں میں
کرے گی رقص
حسینہ فکر چار طرف
بجیں گے درد کے پازیب
دل کے صحرا میں
اور ارتعا ش قدم سے زمین بنجر میں
نئے سحر کی طرح
پھر سے چند چمکے گا!
No comments:
Post a Comment
Your comment is awaiting moderation.
Newer Post
Older Post
Home
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment
Your comment is awaiting moderation.