Monday, December 26, 2011

دیوسائی کی عکسی داستان


دیو سائی (جنات اور پریوں کے رہنے کی جگہ) گلگت بلتستان میں ضلع سکردو اور ضلع استور کے درمیان ایک بلند اور وسیع سطح مرتفع کا نام ہے۔  اس علاقے کی سطح سمندر سے اوسط بلندی 4144 میٹر (13،500 فٹ ) کے لگ بھگ ہے اور ویکیپیڈیا کے مطابق اس کا رقبہ تقریبا 3000 مربع کلومیٹر (1200 مربع میل) ہے۔

قدرتی حیات اور حسن سے مالا مال یہ خطہ پاکستان کے چند مشہور ترین نیشنل پارکس میں شامل ہے۔ گزشتہ سال سکردو سے براستہ صدپارہ استور کی طرف جاتے ہوئے دیو سائی سے گزرنے کا موقع ملا۔ اس دوران میں نے کچھ تصویریں بھی لی تھی جو اس بلاگ پوسٹ میں پیش کئے جارہے ہیں۔ 


مشہور و معروف شیو سار جھیل جسکی خوبصورتی کا مکمل اظہار اس تصویر سے ممکن نہیں ہے۔ شیو سار جھیل استور کی سمت دیو سائی کے کنارے پر واقع ہے۔ وخی زبان میں شیو کالے کو کہتے ہیں، جبکہ سار سر/چھت/بلندی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ لیکن اس علاقے میں وخی بولنے والے موجود نہیں ہیں اسلئے غالب خیال یہی ہے کہ مقامی زبانوں، بلتی یا شینا، میں اس نام کا مطلب کچھ اور ہی ہوگا۔ 



دیو سائی سے اترکر کر ضلع استور کے زیریں علاقوں کی طرف جاتے ہوئے جا بجا چھوٹی چھوٹی بستیاں نظر آتی ہیں، جن میں مقامی افراد صرف گرمیوں کے موسم میں رہ سکتے ہیں۔ سردیوں میں یہ علاقے مکمل طور پر برف میں ڈھکے ہوتے ہیں۔ 

وادی استور قدرت میں موجود ہر نوع کے رنگوں کے حسین امتزاج سے مزئین ہیں۔ یہ تصویر دیکھ کر مجھے اس پینٹنگ کی یاد آتی ہے جو سکول کے بچے عموما پہاڑی علاقوں کا جغرافیہ اورحسن بیان کرنے کے لئے بناتے ہیں۔ 

ضلع استور کا شمار گلگت بلتستان کے ان اضلاع میں ہوتا ہے جہاں شرح خواندگی کافی اچھی ہو گئی ہے۔ جغرافیائی طور پر کشمیر کے قریب ہونے کی وجہ سے یہاں کے باسیوں کو تاریخی لحاظ سے تعلیم حاصل کرنے کے زیادہ مواقع ملے ہیں۔ تاہم، اس تصویر میں موجود ایک چھوٹے سے گاوں کا یہ حصہ روائتی پن چکی اور قرب و جوار کے مناظر کی وجہ سے پرانے وقتوں کا حسین اور قدرتی نمونہ پیش کرتا ہے۔


سکردو کی طرف سے دیوسائی تک پہنچنے کے لئے ایک عمودی چڑھائی عبور کرنی پڑتی ہے۔ اوپر پہنچتے پہنچتے چھوٹی گاڑی کا کھانس کھانس کر برا حال ہو جاتا ہے۔ اسی لئے بیچ میں سستاے اور دلکش قدرتی حسن کا مزہ لیتے ہوئے دھیرے دھیرے اوپر چڑھتے جائیں۔ 


یرقان زدہ شہری علاقوں کے دھند اور دھویں سے بیزار روح جب دیو سائی کی مست ہواوں ، نیلے پانیوں، چٹیل پہاڑوں کے درمیان آ پہنچتا ہے تو بے اختیار کھل جانے کا جی چاہتاہے۔ یہ حقیقت ہے کہ میری پیدائش بھی ایک پہاڑی علاقے، وادی ہنزہ، میں ہوئی، لیکن گزشتہ دہائی سے نام نہاد تعلیم اور ملازمت کی وجہ سے اپنے علاقوں سے دور رہا ہوں۔ ہاں، دل میں ایک خواہش ضرور ہے کہ جب جان نکلے تو پہاڑوں کے دامن میں نکلے اور جسم اسی مٹی میں شامل ہو جائے جبکہ روح انہی جنتی فضاوں میں موجود رہے۔ 


دیوسائی میں روڈ کچے ہیں اور سردیوں کے موسم میں چلتے ہوئے دھول بہت اڑتی ہے، اسلئے ضروری ہے کہ سیاح اپنے گاڑیوں کے شیشے بند کر دے یا پھر منہ ڈھانپے رکھے تاکہ دھوپ کی تیزی اور گرد وغبار کے مضر اثرات سے محفوظ رہا جا سکے۔ 


اس تصویر کے ساتھ بڑا ظلم ہوا۔ ایک ماہر گرافِکس نے اس کو ’’مزید خوبصورت‘‘ بنانے کی کوشش میں بگاڑدیا اور ایسے بگاڑا کہ پھر بن نہیں پایا ۔ بہر حال، پل کی تعمیر سے پہلے اس بڑے دریا کو گاڑی سمیت عبور کرنا پڑتا تھا۔ اب چھوٹی گاڑیاں اس پر سے گزر سکتی ہیں۔ 


یہ پل صرف چھوٹی گاڑیوں کے لئے موزوں ہے۔ گرمیوں میں جب ندی نالوں میں برف پگھلنے کے باعث پانی کا بہاو بڑھ جاتا ہے تو عموما پانی اس پل کے اوپر سے بہنا شروع کردیتا ہے۔ 


کالا پانی کے نام سے مشہور یہ نسبتا چھوٹا سا دریا دوپہر کے بعد پانی کے بہاو میں اضافے کی وجہ سے بپھر جاتا ہے اور اس سے گزرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ دریائے کالا پانی پر پل تعمیر کرنے کی توفیق ابھی تک مقامی حکمرانوں کو نصیب نہیں ہوئی ہے۔ سیاحوں کو چاہیے کہ دن کے بارہ بجے سے پہلے اس دریا کو کراس کر لے، تاکہ رات دیوسائی میں رہنے کی زحمت نہ اٹھانی پڑے۔ یاد رہے کہ دیوسائی میں ہوٹل اور انسانی آبادیاں موجود نہیں ہیں، لیکن یہ نیشنل پارک بھورے ریچھ اور دوسرے جنگلی حیات کا مسکن ضرور ہے۔ :-) 

مکمل تحریر >>